Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

قتل ایک انتہائی بھیانک عمل ہے۔ کسی فرد کو قتل کرنا صرف اُس وقت جائز ہے جب کہ وہ سماجی امن کے لیے ناقابل علاج خطرہ بن گیا ہو۔ حقیقی وجہ جواز کے بغیر کسی ایک انسان کو قتل کرنا بھی سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیوں کہ اس سے احترامِ جان کی روایت ٹوٹتی ہے۔ ایک انسان کو ناحق قتل کرنا بظاہر ایک آسان فعل دکھائی دینے لگتا ہے۔ شراب کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ : مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 6558)۔ یعنی، جس چیز کی زیادہ مقدار نہ کرے اس چیز کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ یہی معاملہ قتل کا بھی ہے۔ بہت سے انسانوں کو قتل کرنا جتنا بھیانک ہے اتنا ہی بھیانک ایک انسان کو قتل کرنا بھی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف ڈگری کا ہے، نوعیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ قرآن کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں امن و سلامتی کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ اگر کسی سماج میں ایک شخص کو قتل کر دیا جائے تو پورا کا پورا سماج اُس پر تڑپ اٹھے۔ سماج میں دوبارہ امن و سلامتی کی حالت کو قائم کرنے کے لیے اس اہتمام کے ساتھ کام کیا جائے جیسے کہ کسی نے ایک فرد کو قتل نہیں کیا ہے، بلکہ اُس نے پوری انسانیت پر حملہ کر دیا ہے۔ تشدد کی آگ کو بجھانا قرآن کی سورہ نمبر 5 میں ارشاد ہوا ہے : كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ (5:64)۔ یعنی، جب بھی وہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس آگ کو بُجھا دیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کا منصوبہ موجودہ دنیا کے بارے میں کیا ہے۔ یہ منصوبہ امن کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی ایک فریق لڑائی کی آگ بھڑکانے پر آمادہ ہو تو دوسرے فریق کو چاہیے کہ وہ پر امن تدبیر سے اُس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page