Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی حالت میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں ۔ اعراض یا ٹکراؤ، ان دو کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں۔ اب آدمی اگر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرے تو دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ہوگی۔ ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ لڑائی سے صرف دل کی بھڑاس نکلتی ہے۔ حقیقی معنوں میں اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ سے ہٹ جائے اور اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اعراض کا طریقہ نہ صرف مزید نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ترقی کے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اعراض کا عمل بظاہر فریق ثانی کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اعراض کا مقصد خود اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچانا ہے۔ اعراض کا مقصد یہ ہے کہ اپنے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جائے ۔ صبر ترقی کا راز قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ارشاد ہوا ہے کہ وَاصْبِرُوَاْ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (8:46) ۔ یعنی، تم صبر کرو کیوں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ملی الی ایل نے فرمایا: وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا ، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (مسند احمد، حدیث نمبر 2805)۔ یعنی، جان لو کہ بے شک ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے ۔ اور کامیابی صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مشقت کے ساتھ ہے۔ اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کے سامنے مشکل حالات آئیں یا اُس کو کوئی تلخ تجربہ پیش آئے تو وہ گھبرا اُٹھتا ہے اور بعض اوقات تشدد پر اتر آتا ہے۔ مگر اس قسم کا رد عمل فطرت سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون ہمیشہ اُن لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو حق اور انصاف پر ہوں۔ حق پرست فرد یا گروہ اگر جلد بازی نہ کرے اور صبر سے کام لے تو کامیابی اپنے آپ اُس کی طرف چلی آتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page