تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
بیشتر حالات میں ناکامی اُن لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو جلد بازی سے کام لیں اور قبل از وقت پرجوش اقدام کر بیٹھیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ صبر کا طریقہ اختیار کریں اُن کے لیے ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اُن کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیں۔ قرآن کے مطابق ، صبر کا الٹا عجلت ہے ( 46:35) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص صبر کی روش اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عجلت کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ سے ہٹ جاتا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ سے ہٹ جائے اُس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ نزاع نہیں قرآن کی سورہ نمبر 22 میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے ۔ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ (22:67)۔ یعنی ، وہ تم سے امر میں ہرگز نزاع نہ کریں اور لوگوں کو تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ اس آیت میں نزاع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم انہیں نزاع کا موقع نہ دو۔ یعنی جب بھی تمہارے اور فریق ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے تو اس کو پرامن بات چیت کے دائرہ میں محدود رکھو۔ ایسا ہرگز نہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گذر کر عملی نزاع بن جائے۔ اور متشددانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آجائے۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دو فریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تناؤ بذات خود ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر پیدا ہوگا۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرہ میں رہنا اس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدد کے دائرہ میں پہنچ جانا اس کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف برا نہیں، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف بُرا بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader