تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے امن کو مکمل نظریہ حیات کی حیثیت دی۔ آپ نے بتایا کہ تشدد تخریب کا ذریعہ ہے اور امن تعمیر کا ذریعہ۔ آپ نے فساد کو سب سے بڑا جرم بتایا جس کا مطلب فطرت کے پُر امن نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔ آپ نے امن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ ایک انسان کے قتل کو سارے انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیا۔ ملاقات میں السلام علیکم کہنے کو رواج دینا، اس کا مطلب یہ تھا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے۔ آپ نے آخرت کی کامیابی کو انسانی جدوجہد کی منزل بتایا، اس طرح آپ نے دنیوی ترقی کو نشانہ بنانے کی جڑ کاٹ دی جس کی وجہ سے ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ نے انسان کے لیے بہتر زندگی کا فارمولا دیا۔ لوگوں کو نفع دینے والے بنو، اور اگر تم نفع نہیں دے سکتے تو لوگوں کے لیے بے ضرر (harmless) بن جاؤ۔ آپ نے بتایا کہ کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھو۔ تم دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو، پھر تم کو معلوم ہوگا کہ ہر دشمن امکانی طور پر (potentially) تمہارا دوست تھا۔ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا تھا۔ جہاد پُرا من عمل کا نام ہے ملا علی قاری مشہور عالم اور فقیہ ہیں۔ ان کا پورا نام یہ ہے۔ علی بن (سلطان) محمد، نور الدین الملا الہروی القاری۔ ملا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات 1014 ھ (1606ء) میں مکہ میں ہوئی۔ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھیں ۔ (الاعلام للزرکلی، جلد 5، صفحہ 12) ملا علی قاری کی ایک کتاب کا نام مرقاۃ المصابیح ہے جو مشکوۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں ملا علی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے الفاظ میں لغوی طور پر جدوجہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ثُمَّ غَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ عَلَى قِتَالِ الْكُفَّارِ (جلد 6، صفحہ (2452) ۔ یعنی، پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہل کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader