تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
منع ہے، نہ کہ اسلامی منع۔ پیغمبروں کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اس منع کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پرامن طور پر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لادینیت قرار دے کر اس کے خلاف لفظی اور عملی لڑائی چھیڑ دی۔ اس طرح وہ غیر ضروری طور پر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے ملا ہوا قیمتی منع استعمال ہونے سے رہ گیا۔ انسانوں کے لیے رحمت قرآن کی سورہ نمبر 21 میں پیغمبر اسلام ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107)۔ یعنی، ہم نے تم کو تبس دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا آناساری دنیا کے انسانوں کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور تھا۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے وہ اصول بتائے جن کو اختیار کر کے انسان ”دارالسلام“ (10:25) میں آباد ہوسکتا ہے۔ یعنی امن و سلامتی کی کالونی میں۔ آپ کے ذریعہ وہ تعلیمات اتاری گئیں جو انسانی معاشرہ کو پرامن معاشرہ بنا سکتی ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پہلی بار امن (peace) کے تصور پر مبنی مکمل آئیڈیالوجی پیش کی۔ آپ نے زندگی کا وہ فارمولا بتایا جو آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد سے بچتے ہوئے اپنے لیے ایک صحت مند زندگی کی تعمیر کرسکے۔ آپ کے ذریعہ دنیا میں وہ انقلاب آیا جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ٹکراؤ اور جنگ سے بچتے ہوئے انسان ایک پرامن سماج بنا سکے۔ پیغمبر اسلام کو اگرچہ مجبورکن حالات میں بعض ایسی لڑائیاں لڑنی پڑیں جو اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کو جنگ کے بجائے جھڑپ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کو بجاطور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader