Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ بتاتی ہے کہ عین اس وقت جب کہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، پیغمبر اسلام کے پاس خدا کا فرشتہ آیا۔ اس نے کہا کہ اے محمد، اللہ نے آپ کو سلام (سلامتی) کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے فرمایا: هُوَ السّّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 3، صفحہ (267) یعنی، اللہ سلامتی ہے اور اس سے سلامتی ہے اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی پیغمبر اسلام ایک امن پسند انسان بنے ہوئے تھے۔ اس ہنگامی وقت میں ایسا نہ تھا کہ آپ کا ذہن نفرت اور تشدد سے بھر جائے بلکہ اس وقت بھی آپ امن اور سلامتی کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، اس وقت بھی آپ کا دل اس آرزو سے تڑپ رہا تھا کہ اللہ کی مدد سے وہ دنیا میں امن اور سلامتی کا ماحول قائم کر سکیں۔ سچا انسان وہ ہے جو جنگ کے وقت بھی امن کی بات سوچے، جو لڑائی کے ہنگاموں میں بھی سلامتی کا جذبہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہو۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مثبت سوچ ( positive thinking) کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ تمام منفی واقعات میں سب سے بڑا منفی واقعہ ہے۔ پیغمبر عین اس کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر اس کی زبان سے خون اور تشدد کے بجائے امن اور سلامتی کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو تشدد کے درمیان بھی امن کی بات سوچے، جو جنگ کے حالات میں بھی صلح کا منصوبہ بنائے۔ اللہ کا نام سلامتی قرآن میں اللہ کے مختلف نام (یا صفات) بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک السلام ہے، یعنی سلامتی۔ گویا کہ خدا خود سلامتی کا مظہر ہے، خدا خود سلامتی کا پیکر ہے۔ خدا کو امن وسلامتی اتنا زیادہ پسند ہے کہ اس نے اپنا ایک نام السلام رکھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page