Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت کی تفسیر میں الخطابی نے لکھا کہ ـــــ الَّذِي سَلِمَ الْخَلْقُ مِنْ ظُلْمِهِ (شان الدعاء للخطابی، صفحہ 41) ـــــ یعنی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں، لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔ خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خدا کا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو تو انسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن و سلامتی کا برتاؤ کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔ طاقت ور کون ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5763) ـــــ یعنی، طاقت ور وہ نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقت ور صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ غصے کے وقت غصہ کو روکنا سلف کنٹرول (self control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسے موقع پر سلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصے کے وقت بھڑک اٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصے کا قابو میں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصے کے وقت بے قابو ہو جانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔ ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اس کو لڑائی میں پچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلے میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلے میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اس کے اندر غصہ بھڑک کے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کر لے اور غصہ دلانے والے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page