Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ معتدل انداز میں معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا آدمی اپنی دانشمندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہر جنگ جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔ سماجی امن کا فارمولا سماجی امن کا فارمولا کیا ہے اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے، اس کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: اَلْفِتْنَةُ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ اَيْقَظَهَا (التدوین فی اخبار قزوین للرافعی، جلد 1، صفحہ 291)۔ یعنی، فتنہ سویا ہوا ہے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر انا (ego) کا جذبہ موجود ہے۔ اور انا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا کرے گا۔ مگر فطرت نے اس جذبے کو ہر آدمی کے سینے میں سلا دیا ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر موجود ہے مگر تخلیقی نظام کے تحت وہ خوابیدہ حالت میں ہے۔ ایسی حالت میں کسی سماج کو پرامن سماج بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سینے میں سوئی ہوئی انسانیت کو سویا رہنے دیا جائے۔ سماجی امن کو وہی لوگ درہم برہم کرتے ہیں جن کی انسانیت کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ اگر انسانیت کو بھڑکانے سے بچایا جائے تو سماج کا امن بھی تباہ نہ ہوگا۔ آپ اپنے مثبت رویہ سے دوسروں کی انا کو نہ چھیڑیے، اور پھر یقینی طور پر آپ ان کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ خاموشی میں نجات حدیثوں میں مختلف انداز سے خاموشی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page