تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولنے کی عادت اس کو اس قابل بنادے گی کہ وہ ہنگامی مواقع پر بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولے، وہ ذہنی ڈسپلن کے ساتھ بات چیت کرے۔ دنیا کے اکثر فتنے الفاظ کے فتنے ہیں۔ کچھ الفاظ نفرت اور تشدد کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے الفاظ امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرتے ہیں۔ اگر آدمی صرف یہ کرے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بولے تو بیشتر فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر کلام کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ صفت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے آپ پر نظر ثانی کرتے رہیں، جو اپنے قول و عمل کا حساب لیتے رہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سنے تو وہ فوراً اس کا جواب نہ دے، وہ فوراً اپنا ردِ عمل پیش نہ کرے ۔ وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہر کر سوچے کہ کہنے والے نے کیا بات کہی ہے اور میری طرف سے اس کا بہتر جواب کیا ہوسکتا ہے ۔ بات کو سن کر ایک لمحہ کے لیے ٹھہرنا اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کا درست جواب دے گا، وہ پتھر کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے پتھر کا جواب پھول سے دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ دشمن سے ٹکراؤ نہیں پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6810)۔ یعنی، دشمن سے مَد بھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے امن مانگو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر تمہارا دشمن بن جائے تو ایسا نہ کرو کہ تم بھی اس کے دشمن بن کر اس سے لڑنا شروع کر دو۔ بلکہ فریقِ ثانی کی دشمنی کے باوجود تم اس کے ساتھ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ دشمنی کے حالات کے باوجود تمہارا طریقہ لڑائی سے بچنے کا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے آپ کو لڑائی میں پھنسا لینے کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader