تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ سے امن مانگو۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم ٹکراؤ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرو اور اپنی امن پسندانہ کوششوں کے ساتھ خدا کو بھی دعاؤں کے ذریعہ اس میں شامل کرو۔ تمہاری دعا یہ نہیں ہونی چاہیے کہ خدایا، دشمن کو ہلاک کردے بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ خدایا، مجھے توفیق دے کہ میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کروں بلکہ امن کے راستے پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتا رہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، اس دنیا میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور تشدد کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی۔ مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تو اس سے نمٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اس سے مڈبھیڑ کی جائے۔ زیادہ بہتر مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ امن کی طاقت تشدد کی طاقت کے مقابلے میں، زیادہ کارگر بھی ہے اور زیادہ مفید بھی۔ نان وائلنس کا طریقہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: اِنَّ اللَّهَ رَفِیْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ( صحيح مسلم، حديث نمبر، 2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ یہ دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہے جو خدا نے موجودہ دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اس کا کام زیادہ نتیجہ خیز بن جاتا ہے۔ اور جو شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے اس کا کام آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی کوششیں غیر ضروری طور پر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیر کا۔ اور دوسرا محاذ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader