Urdu book · مسائلِ اجتہاد

ضمیر بہترین حج ہے

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں کہا۔ انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سونڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے اور مسٹر سونڈ کو لے کر گھر کے اندر آگئے۔ ان کو کمرہ میں لاکر انہیں کرسی پر بٹھادیا۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سونڈ آپ لوگ کس سلسلے میں یہاں آئے۔ مسٹر سونڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کا غذ پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کا غذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ میرے پاس جو کا غذات ہیں ان کو لے لیجے اور ٹھیکہ دار صاحب کے پاس جو کا غذات ہیں ان کو بھی لے لیجیے۔ اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملے میں میں آپ کو ہی جج مانتا ہوں۔ آپ کا غذات کود دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلاشرط منظور ہوگا۔ یہ سن کر مسٹر سونڈ بالکل نارمل ہو گئے۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے تھے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے انہوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہمیں جج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کا غذات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کا غذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انہوں نے صدفی صد مسلمان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مذکورہ مسلمان اگر بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (انانیت) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (ضمیر) جاگ اٹھا۔ اور جب ضمیر جاگ اٹھے تو اس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page