Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے اور آپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اس کے اوپر گولی چلا دیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ انسانوں کے اوپر گولی چلانا آپ کے لیے قابل دست اندازی پولیس جرم (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ایسا ہوگا تو پولیس فوراً وہاں آجائے گی اور آپ ہرگز پولیس سے لڑ نہیں سکتے۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے پاس گن ہونا اور پولیس کے پاس گن ہونا دونوں میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ آپ گن رکھنے کے باوجود کسی کو گولی مارنے کا قانونی حق نہیں رکھتے۔ لیکن پولیس کے پاس گن ہے تو وہ گولی مارنے کا قانونی حق بھی رکھتی ہے۔ غیر قوم کے مقابلے میں بظاہر مقابلہ دومساوی فریق کے درمیان نظر آتا ہے مگر جب معاملہ آپ کے اور پولیس کے درمیان کا ہو جائے تو یہ مقابلہ مکمل طور پر غیر مساوی ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ گولی چلانا اپنے نتیجے کے اعتبار سے، آہبیل مجھے مار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا اقدام تحفظ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف ہلاکت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضمیر بہترین حج ہے ایک شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر سے ملی ہوئی ایک زمین کو انہوں نے حصار بنا کر اپنے گھر میں داخل کر لیا۔ ان کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکہ دار تھا۔ اس ہندو ٹھیکہ دار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اس کی ہے۔ چنانچہ اس نے شہر کے کٹّر ہندوؤں سے مل کر انہیں بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہوگئی، اور نعرے لگانے لگی۔ مذکورہ مسلمان کے پاس اس وقت دو بندوقیں تھیں مگر انہوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔ وہ تنہا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انہوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page