شکایت کو فوراً ختم کرنا
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ وہ آدمی کو مثبت سوچ سے محروم کردیتا ہے۔ اور اس قسم کا مزاج بلاشبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اکثر تشدد کے پیچھے شکایتی مزاج ہی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ موجودہ دنیا کا تخلیقی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ شکایت کا خیال آتے ہی فوراً اس کو اپنے دماغ سے نکال دیا جائے ۔ شکایت جب پیدا ہوتی ہے تو پہلے وہ آدمی کے شعوری ذہن (conscious mind) میں ہوتی ہے۔ اگر اس کو یاد رکھا جائے یا بار بار دہرایا جائے تو وہ دھیرے دھیرے آدمی کے غیر شعوری ذہن (unconscious mind) میں چلی جاتی ہے۔ اور اس طرح بیٹھ جاتی ہے کہ اس کے بعد کسی طرح اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ شکایت کے معاملہ میں وہ ”گربہ کشتن روز اوّل“ کا معاملہ کیا جائے ۔ شکایت پیدا ہوتے ہی اس کو فوراً ختم کر دیا جائے ۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میں اس کو ختم نہ کیا جائے تو دھیرے دھیرے وہ آدمی کی نفسیات کا مستقل جزء بن جائے گی۔ وہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ اگر موقع ہو تو وہ دوسروں کے خلاف تشدد پر اتر آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ زیر شکایت لوگوں سے عملی ٹکراؤ شروع کردے گا، خواہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں کیوں نہ ظاہر ہو۔ شکایت کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کرنے کا فارمولا کیا ہے، وہ فارمولا قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مَّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (42:30)۔ یعنی، جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کو دوسرے کے خلاف شکایت پیدا ہو تو فوراً آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ شکایت کا رخ اپنی طرف کر لیں ۔ معاملہ کی کوئی ایسی توجیہ ڈھونڈیں جس میں قصور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader