Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

خود آپ کا نکلتا ہو۔ جب آپ کو احساس ہوگا کہ کوتاہی خود آپ کی ہے، نہ کہ کسی غیر کی تو ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں لگ جائیں گے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف فریاد اور احتجاج میں ضائع کریں گے۔ دہشت گردی کیا ہے موجودہ زمانہ میں ایک برائی ظاہر ہوئی ہے جس کو دہشت گردی (terrorism) کہا جاتا ہے۔ دہشت گردی کو عام طور پر کنڈم کیا جاتا ہے مگر دہشت گردی کیا ہے، اس کی کوئی واضح تعریف غالباً ابھی تک سامنے نہ آسکی۔ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے میں نے سمجھا ہے کہ دہشت گردی نام ہے، غیر حکومتی تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا (armed action by NGOs)_ اسلام کے متفقہ اصول کے مطابق ، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے (اَلۡرَّحِيْلُ لِلْإِمَامِ)۔ وہ چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دہشت گردی کہا جاتا ہے، وہ سب کی سب غیر حکومتی تنظیموں کے مسلح اقدام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔ اس قسم کی مسلح تحریک بلا شبہ اسلام میں ناجائز ہے۔ عوام کو پرامن انداز میں اپنی بات کہنے کا حق ہے مگر کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا عوام کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ مزید یہ کہ قائم شدہ حکومت کے لیے بھی جنگی اقدام کی کئی لازمی شرطیں ہیں۔ مثلاً ایک قائم شدہ حکومت بھی صرف جنگ کر سکتی ہے، جارحانہ جنگ چھیڑنے کا حق حکومت کو بھی نہیں۔ اسی طرح ایک جائز جنگ بھی اعلان کے ساتھ لڑی جائے گی۔ بلا اعلان جنگ (undeclared war) کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں۔ اسی طرح ایک جائز دفاعی جنگ میں بھی حکومت صرف مقاتل (combatants) پر وار کر سکتی ہے، غیر مقاتل (non combatants) کو مارنا یا ان کو نقصان پہنچانا جنگ کی حالت میں بھی ہرگز جائز نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page