Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلب صرف تباہی ہے۔ جو بم دشمن کے اوپر ڈالا جاتا ہے وہ مختلف پہلوؤں سے خود ڈالنے والے کے لیے بھی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ ایسی حالت میں جنگ ایک بے فائدہ عمل بن چکی ہے۔ اب جنگ ایک دیوانگی ہے، نہ کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے اقدام۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے ہتھیاروں کے ظہور کے بعد جنگ اب ایک قابل ترک چیز بن چکی ہے۔ جب جنگ مثبت معنوں میں بے نتیجہ ہو جائے تو ایسی حالت میں جنگ چھیڑنا ایک دیوانگی ہے، نہ کہ عقل مندی۔ زمانہ کے خلاف موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن (globalization) کا زمانہ ہے۔ ساری دنیا ایک گلوبل ویلج کی مانند ہو گئی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانے میں تشدّد یا مسلح جدوجہد ایک ایسی چیز بن چکی ہے جو زمانہ کے خلاف عمل (anachronism) کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانے میں جو لوگ ہتھیار کی لڑائی لڑ رہے ہیں ان سے پوچھئے کہ وہ کیوں جنگ کر رہے ہیں تو وہ بتائیں گے کہ قائم شدہ حکومت کو بدلنے کے لیے وہ جنگ کر رہے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہم ایک نیا نظام بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ مگر یہ بات صرف زمانے سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسی تبدیلیاں ہو چکی ہیں کہ اب کسی حکومت پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ حکومت پر قبضہ کیے بغیر ہر وہ کام کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ برداشت کی ضرورت عدم برداشت کا نتیجہ تشدّد ہے، اور برداشت کا نتیجہ امن۔ انہی دو لفظوں میں امن اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page