مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل نہ رہیں۔ کسی فرد یا گروہ کے خلاف کوئی قابل شکایت بات پیش آئے تو اس کا حل جوابی کارروائی نہیں ہے بلکہ اس کو درگزر کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ درگزر کرنے سے معاملہ پہلے ہی مرحلے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر درگزر نہ کیا جائے تو نفرت اور انتقام اور تشدد کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انتقام کا رخ دوسرے کے خلاف ہوتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ شکار خود انتقام لینے والا بنتا ہے۔ انتقامی پالیسی کی بھاری قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جائے۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی تعمیر میں صرف کرنے کے بجائے انہیں صرف دوسرے کی تخریب میں صرف کرنے لگے۔ دوسرے فریق نے اگر آپ کو پچاس فی صد نقصان پہنچایا تھا تو اپنی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں اپنی بقیہ پچاس فی صد طاقت کو بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ انتقام کا مطلب یہ ہے کہ قاتلانہ حملہ کے بعد کوئی شخص خود اپنے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انتقام ہر حال میں برا ہے اور انتقام نہ لیتے ہوئے معاملہ کو بھلا دینا ہر حال میں اچھا ہے۔ انتقام لینے والا اگر آپ کا دشمن تھا تو انتقام لے کر آپ خود اپنے دشمن بن جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے دشمن آپ بن جائیں ان کو تباہی سے کون بچا سکتا ہے۔ جنگ کا زمانہ ختم وسیع تر تقسیم میں جنگ کے دو دور ہیں۔ ایک وہ ابتدائی دور جب کہ جنگی مقابلہ کا فیصلہ تلوار کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسرا دور جدید دور ہے کہ لڑائی میں بم کی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ دونوں دوروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ تلوار جب چلائی جاتی تھی تو وہ صرف ایک دشمن کی گردن کو کاٹتی تھی۔ اب بم کے زمانے میں جنگ کا مطلب یہ نہیں ۔ اب جنگ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader