مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم گاہیں اور تحقیق کے ادارے کبھی تشدد کی طاقت سے نہیں بنے۔ لوہے کا مشین میں ڈھلنا یا سٹی پلاننگ جیسے کام امن کے ذریعہ انجام پائے، نہ کہ تشدد کے ذریعہ۔ سماجی فلاح سے لے کر انفراسٹرکچر تک ہر کام ہمیشہ پُراست تدبیروں کے ذریعہ تکمیل پذیر ہوتے ہیں۔ تشدد ایک تخریبی عمل ہے۔ اور ایک تخریبی عمل کے ذریعہ کبھی کوئی تعمیری واقعہ ظاہر نہیں ہو سکتا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور فطرت کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔
مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
اپریل 2002ء کے آخری ہفتہ میں مکہ میں رابطہ عالم اسلامی کی چوتھی عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے مسلم علما اور دانشور تقریباً پانچ سو کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع ”اسلام اور گلوبلائزیشن“ بتایا گیا۔ اس کانفرنس کی ایک رپورٹ لاہور کے ماہنامہ محدث (مئی 2002) میں دیکھی۔ اس کا ایک حصہ یہاں کسی قدر تصرف کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے۔ بوسنیا کے رئیس العلما مصطفیٰ سیرچ نے سابق صدر بوسنیا عزت بیگو وچ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بوسنیا کے تلخ تجربہ کی روشنی میں یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عربوں کو اسرائیل سے صلح و آشتی کا راستہ اختیار کر لینا چاہیے۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی فوراً مائیک پر آئے اور نہایت شدید الفاظ میں عزت بیگوچ کے اس نظریہ کی تردید کی۔ رپورٹ کے مطابق، بظاہر پوری کانفرنس میں کوئی شخص بھی عزت بیگوچ کی حمایت میں بولنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا (صفحہ 54)۔ جس زمانے میں عزت بیگوچ نے بوسنیا کے آزاد مسلم مملکت ہونے کا اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں خونی جنگ چھڑ گئی، اس وقت ساری مسلم دنیا میں عزت بیگوچ ہیرو بن گئے۔ مگر آج یہی عزت بیگوچ جب امن اور صلح کی بات کرتے ہیں تو اب وہ مسلمانوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader