مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں زیرو بنے ہوئے ہیں۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو کچھ سبق آموز باتیں سامنے آئیں گی۔ 1۔ موجودہ زمانے کے مسلمان محصور ذہنیت (besieged mentality) میں جی رہے ہیں۔ ان کے نااہل دانشوروں اور لیڈروں نے انہیں یہ بتا رکھا ہے کہ وہ مظلوم ہیں اور دشمنوں کی سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ جو لوگ ایسی نفسیات میں مبتلا ہوں ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ لڑائی کی زبان تو سمجھیں گے مگر وہ صلح کی زبان سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ 2۔ مسٹر عزت بیگووچ نے جو پیغام بھیجا وہ ایک ادھورا پیغام تھا۔ اس بنا پر وہ کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا۔ عزت بیگووچ کا پیغام اپنی موجودہ شکل میں صرف مجبوری کے ہم معنی ہے۔ اور کوئی بھی مسلمان مجبوری کے تحت کسی پالیسی کو اختیار کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ عزت بیگووچ کو چاہیے کہ وہ مسلح اقدام کے بجائے پُرامن اقدام کا طریقہ دریافت کریں۔ اس کے بعد لوگوں کے لیے ان کا پیغام قابل قبول بن جائے گا۔ 3۔ مکہ کی کانفرنس کی روداد دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بولنے والے تمام مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کی بولی بولتے رہے، وہ مسائل پر تقریریں کرتے رہے۔ یہی موجودہ زمانے میں تمام مسلم کانفرنسوں کا حال ہے۔ ہر کانفرنس میں صرف مسائل کا پرشور تذکرہ ہوتا ہے۔ علما اور دانشوروں کے اس مزاج نے موجودہ زمانے کی تمام مسلم کانفرنسوں کو سراسر بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ کانفرنس کا مقصد مواقع کار کی مثبت نشاندہی ہونا چاہیے، نہ کہ مسائل کے نام پر منفی چیخ و پکار، قرآن کے الفاظ میں، عصر میں یسر کی نشاندہی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے جب نبوت کے تیرہویں سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اس وقت آپ مسائل کے جنگل سے گزر کر وہاں پہنچے تھے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader