مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
وہاں کے لوگوں کے سامنے جو پہلا خطبہ دیا وہ ابن ہشام نے اس عنوان کے ساتھ نقل کیا ہے: أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي المَدِينَةِ (رسول اللہ ﷺ کا پہلا خطبہ جو آپ نے مدینہ میں دیا)۔ یہ پورا خطبہ سیرت ابن ہشام میں آج بھی موجود ہے۔ اس کو پڑھیے تو اس میں ایک لفظ بھی شکایت اور احتجاج کا نہیں ملے گا۔ اس پورے خطبہ کا خلاصہ ان کے اس جملہ میں ہے: فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ مِنْ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 501-500)۔ یعنی، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔ عجیب بات ہے کہ اسی رسول کے امتی آج رسول کی سنت کے برعکس شکایت اور احتجاج کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ حتیٰ کہ مکہ اور مدینہ میں بھی یہی خلاف سنت کام نہایت دھوم کے ساتھ جاری ہے۔ کوئی اللہ کا بندہ اگر انہیں اس روش کو ترک کرنے کی نصیحت کرے تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کی خلاف سنت سرگرمیاں بلاشبہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں، خواہ یہ سرگرمیاں مقدس مقامات پر کیوں نہ کی جارہی ہوں۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسانوں کا ظلم نہیں ہے بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا انتباہ ہے۔ یہ سب مسلمانوں کو چوکس کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے فلاح کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ تو بہ کریں۔ وہ تشدد کا راستہ مکمل طور پر چھوڑیں اور امن کا راستہ مکمل طور پر اختیار کرلیں۔ اسلام یا اہل اسلام کے نام پر وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کو امن کے دائرہ میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اس کے سوا ان کے لیے فلاح اور کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader