ہجر جمیل
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجر جمیل قرآن کی سورہ نمبر 73 میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (73:10) ۔ اردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں ان میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں 1۔ اور سہتارہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ ان کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبدالقادر) 2۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی) 3۔ اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ان کو خوبصورتی سے نظر انداز کرو۔ (امین احسن اصلاحی) اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا۔ Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner. قرآن کی آیت مکی دور میں اتری۔ اس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے ان کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اتری۔ اس میں خدا کی طرف سے حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔ ہجر جمیل کے لفظی معنی ہیں۔ خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسن اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملے میں تمہارا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مثبت ردعمل کا طریقہ چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader