ہجر جمیل
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملے میں درگزر کرو اور انکے برے انداز کے مقابلے میں تم ان کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔ مفسرین نے عام طور پر لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیات قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہل ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردعمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے۔ اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے۔ تاکہ اس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تا کہ اس کے اندر محبت الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلے میں ہوتا ہے مگر اس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر اعلی اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اس کے اندر نقصان (erosion) نہ ہونے پائے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی، انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پاسکتیں ۔ جو دل انسان سے نفرت کرے، عین اسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کرسکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہوسکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو وہ خداٹے رحمن اور رحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader