Urdu book · مسائلِ اجتہاد

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا شاتم رسول تھا۔ وہ رات دن شتم رسول کے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود، رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ اس عدم قتل کا سبب کیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات 827 ھ) نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الْإِسْلَامِ لِمَا كَانَ ضَعِيفًا (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 179)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے، کیوں کہ (اس وقت) اسلام ضعیف تھا۔ دورِ اوّل کے زمانے میں اور عباسی خلافت کے زمانے میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، فروری 1989 ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹینک ورسیز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثناء کو چھوڑ کر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے اس فتویٰ کی تائید کی۔ اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتویٰ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجے میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ موجودہ زمانے میں آزادی رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتویٰ کو اپنے مذہب (آزادی) پر براہ راست حملہ سمجھا۔ یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رشدی کے دفاع پر آ گئے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page