Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ پر یہ دونوں حالتیں گزریں۔ آپ کا مکی دور گویا آپ کے لیے متواضع حالت کا دور تھا اور آپ کا مدنی دور گویا آپ کے لیے طاقتور حالت کا دور۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر مطلوب حالتیں ہیں، اور دونوں حالتوں کے لیے پیغمبر کی سیرت میں یکساں نمونہ موجود ہے۔ دونوں نمونوں میں سے کوئی نمونہ نہ کمتر نمونہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی برتر نمونہ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں سارا فیصلہ داخلی نیت پر ہوتا ہے نہ کہ خارجی اعتبار سے سیاسی یا غیر سیاسی حالت پر۔ شتم رسول کا مسئلہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر شتم کرے، خواہ وہ اشارتاً ہی کیوں نہ ہو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا (يُقْتَلُ حَدًّا) اس معاملے میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہ کا استثناء پایا جا سکتا ہے۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے: 1۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیہ 2۔ السيف المسلول علی من سب الرسول، تقى الدين ابوالحسن على السبكي 3۔ تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام أو احد اصحابه الكرام، ابن عابدين الشامي اس مسئلے پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہا کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطور حد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دورِ اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page