Urdu book · مسائلِ اجتہاد

صحبت کا فلسفہ

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

صحبت کا فلسفہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے اصحاب کو اسلام میں جو امتیازی درجہ ملا وہ صحبت رسول کی بنا پر تھا۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحبت کوئی پر اسرار (mysterious) چیز ہے اور اس کی پر اسرار تاثیر کے نتیجے میں اصحاب رسول کو مجرد صحبت کی بنا پر خود بخود یہ فائدہ حاصل ہوا۔ یہ نظریہ علمی طور پر درست نہیں۔ وہ اس معاملے کی پوری توجیہ نہیں کرتا۔ مثلاً اس نظریہ میں اس واقعہ کی توجیہ موجود نہیں کہ مدینہ کے سیکڑوں دوسرے لوگ جو بظاہر ایمان لائے اور پیغمبر کی صحبت میں بار بار بیٹھے، مگر وہ آپ کی صحبت سے فیض حاصل نہ کر سکے اور اسلام کی تاریخ میں منافق کہلائے گئے۔ اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اعلیٰ ایمان حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے معرفت یا ذہنی ارتقاء۔ ایمان قبول کرنے کے بعد آدمی کے اندر معرفت کے رخ پر ایک تفگیری عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ یہ تفگیری عمل ہی دراصل کسی مومن کے لیے اعلیٰ ایمانی درجہ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ پیغمبر کی صحبت میں دراصل یہی تفگیری عمل جاری رہتا تھا۔ لوگ آپ کی باتوں کو سنتے، وہ آپ کی باتوں کو اپنے ذہن میں اس طرح جگہ دیتے کہ وہ ان کے ذہن میں ہلچل پیدا کر دیتا۔ اس طرح ان کے اندر تفکیر کا عمل مسلسل ہر صبح و شام جاری رہتا۔ رسول اللہ کی صحبت اس تفگیری عمل کا ذریعہ تھی، اس لیے اس کو صحبت رسول سے منسوب کیا گیا۔ تاہم پیغمبر کی باتیں سادہ طور پر صرف سننا کافی نہیں۔ پیغمبر کی باتیں صرف اس انسان کے لیے مفید بنیں گی جو ریسیپیٹو (receptive) ہو، جو یکسو ہو کر سنے اور پھر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس کو قبول کر سکے۔ مخلص اہل ایمان میں قبولیت (receptivity)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page