جنگ کا دور ختم
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جغرافی محرومی پر صبر کر لیا۔ اگر پاکستان ایسا نہ کرتا تو وہ اپنے کھوئے ہوئے حصے کی خاطر اپنے بقیہ حصہ کو بھی تباہ کر لیتا۔ جنگ کا مطلب نتیجے کے اعتبار سے یہ ہے کہ جو کچھ بچا ہے اس کو بھی کھو دیا جائے ، جزئی محرومی کو کلی محرومی بنا دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ اب کسی کے لیے بھی انتخاب (option) نہیں۔ آج کی جنگ میں ہارنے والے کے لیے بھی ہار ہے اور جیتنے والے کے لیے بھی ہار۔ تا ہم اس میں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ دور جدید نے اگر ایک طرف جنگ کو نا ممکن بنا دیا ہے تو دوسری طرف جدید دور کے نتیجہ میں ایسی انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں کہ کوئی محرومی ثابت نہ ہو۔ آج کوئی فرد یا گروہ ، خواہ وہ کسی بھی حال میں ہو، از سر نو اپنی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کھونے کے بعد وہ کامیابی کے نئے امکانات کو پا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن نے چھوٹے ملک اور بڑے ملک کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور نے جغرافی حدودیت کے تصور کو عملاً غیر موثر بنا دیا ہے۔ جدید تبدیلیوں کے بعد اب جنگ کی حیثیت کسی صحت مند انتخاب کی نہیں رہی۔ اب جنگ سادہ طور پر جنگ نہیں، وہ غصہ اور نفرت اور مایوسی کے تحت پیش آنے والا ایک منفی واقعہ ہے، نہ کہ کسی تعمیری منصوبہ بندی کا مثبت نتیجہ۔ اب جنگ صرف خود کشی کی مایوسانہ چھلانگ ہے، وہ کسی صحت مند ذہن کے تحت کیا ہوا مفید اقدام نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader