مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے ہم زمانہ اہل ایمان کو عظیم درجہ دے دیا جس کو تاریخ میں اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہ فکری انقلاب کا ایک واقعہ تھا، نہ کہ سادہ طور پر صرف صحبت میں بیٹھنے کا۔ یہی معاملہ بعد کے دور کے علما اور بزرگوں کا ہے۔ ان میں سے کسی کی صحبت میں پراسرار تاثیر نہیں۔ یہ معاملہ تر صحبت میں بیٹھنے والوں اور وہاں کی باتیں سننے والوں کی اپنی استعداد پر منحصر ہے۔ جن افراد کے اندر مادہ قبولیت ہوگا وہ صحبت کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ اور جن افراد کے اندر قبولیت کا مادہ نہ ہوگا وہ فائدے سے محروم رہیں گے۔ اس تشریح کی روشنی میں صحابی کی زیادہ صحیح تعریف یہ ہونا چاہیے۔ جس نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حالت ایمان میں دیکھا اور آپ کی صحبت سے استفادہ کیا اور اسی حال میں اس کی موت ہوئی تو وہ صحابی ہے۔ عمومی صحبت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی عمومی صحبت جو اکثر مسجد میں یا کسی اور مجلس میں آپ کے اصحاب کو حاصل ہوتی تھی، اس کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ آپ کی مجلسوں میں اصحاب رسول کو کس طرح ذہنی تعمیر کی خوراک ملتی رہتی تھی۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟ قُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ أَوْ أَلْحَقَكَ . قَالَ: أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4759)۔ یعنی، ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب میرے بعد والے حکمراں آئیں گے۔ وہ فی (اموال حکومت) کو اپنے لیے خاص کر لیں گے۔ میں نے کہا کہ اس خدا کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader