Urdu book · مسائلِ اجتہاد

عمومی صحبت

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

بھیجا ہے، میں تلوار کو اپنے کندھے پر رکھوں گا اور پھر اس سے انہیں ماروں گا یہاں تک کہ میں آپ سے مل جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے زیادہ بہتر بات نہ بتاؤں۔ تم صبر کرو، یہاں تک کہ تم مجھ سے مل جاؤ۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعے اپنے اصحاب کو ایک نئی فکری روشنی دی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب اپنے حکمرا نوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ اصلاحِ سیاست کے نام پر ان سے متشدّدانہ ٹکراؤ شروع کردیتے ہیں۔ رسول اللہ نے بتایا کہ بگاڑ کے زمانے میں حکمرانوں سے ٹکراکر شہید ہوجانے سے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ ان کے بگاڑ پر صبر کیا جائے، اور یہ سب اس وقت تک جاری رکھا جائے جب کہ انسان کی موت آجائے۔ اس حدیث میں ”صبر“ سے مراد بے عملی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایک عظیم ترین عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں سے نزاع کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کے لیے غیر نزاعی طریقہ ڈھونڈنا اور اس پر کاربند ہوجانا۔ سیاسی نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے صبری کی پیدا وار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نزاع کو اواؤنڈ کرتے ہوئے عمل کرنا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے جذبات پر کنٹرول کرکے صابرانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ یہ ایک عظیم حکمت تھی جو پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے اصحاب کو تلقین فرمائی، صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین نے اس حکمت کو سمجھا اور اس پر بھرپور عمل کیا۔ اس کے نتیجے میں دورِ اول میں وہ عظیم اسلامی کام انجام پایا جو مذکورہ صابرانہ سیاست کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلفائے راشدین کے بعد فوراً سیاست میں بگاڑ آگیا۔ مسلم حکمراں شریعت کے مقرر راستے سے ہٹ گئے۔ اس زمانے میں اگر اہل ایمان اپنے حکمرانوں سے متشدّدانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پہلی اور دوسری نسل کے تمام بہترین لوگ قتل کردیے جاتے۔ ابتدائی نسل کے وہ تمام تاریخ ساز لوگ قبروں میں دفن ہوجاتے۔ اسلام کی عظیم تاریخ بننے کی نوبت ہی نہ آتی جوان لوگوں کے ذریعہ بنی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page