مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
روش کا اندیشہ ہوتا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اسی قسم کے ایک واقعہ پر عربی شاعر نے یہ پر فخر شعر کہا تھا: إِذَا مَا أَرْسَلَ الْأُمَرَاءُ جَيْشًا إِلَى الْأَعْدَاءِ أَرْسَلْنَا الْكِتَابَا مگر موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے۔ مثلاً آزادی کا موجودہ زمانے میں خیر اعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت اختیار کر لینا اور اظہار رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر (hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے، وغیرہ۔ انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے، وہ اپنے پیروؤں کو مذہبی جنون (fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانے میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔ سلمان رشدی کے معاملے میں موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملے میں براہ راست قرآن وسنت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلے کا حل قتل کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ ردّ عمل سے بچتے ہوئے پرامن دائرہ میں اپنی دعوتی کوشش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر دور اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندراٹکے ہوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا، یعنی : الشَّاتِمُ يُقْتَلُ حداً۔ امن کی طاقت جدید صنعتی انقلاب کے بعد جب نو آبادیاتی دور آیا اور مغربی قومیں تمام دنیا میں سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader