Urdu book · مسائلِ اجتہاد

امن کی طاقت

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

اور تہذیبی اعتبار سے غالب آگئیں تو یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ ساری دنیا میں کثرت سے مسلم لیڈر پیدا ہوئے۔ ان تمام لیڈروں کا مشترک ذہن یہ تھا کہ: اَلْجِهَادُ ھُوَ الْحَلُّ الْوَحِيْدُ (جہاد ہی واحد حل ہے)۔ مگر تقریباً دو سو سال کی غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے باوجود اس مسلح جہاد کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اس مسئلہ پر اگر قرآن یث کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حل پرامن دعوت ہے۔ قرآن میں اس طرح کی صورتحال میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم اللہ کی دی ہوئی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ یہ عمل تمہارے لیے حفاظت کا ضامن ہوگا (5:67)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا (41:34)۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن اپنی خاموش زبان میں پکار کر یہ کہہ رہا تھا کہ: اَلدَّعْوَةُ ھِیَ الْحَلُّ الْوَحِیْدُ (دعوت ہی واحد حل ہے)۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ دورِ جدید کے مسلمان قرآن کے اس واضح بیان میں ہدایت نہ پاسکے۔ وہ دعوت کے بجائے جہاد (بمعنی قتال) کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس قسم کے متشددانہ اقدام کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں۔ پھر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں سے یہ بھیا نک غلطی کیوں ہوئی کہ انہوں نے اَلْجِهَادُ ھُوَ الْحَلُّ الْوَحِیْدُ کا غیر قرآنی نظریہ قائم کر لیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اجتہاد مطلق یعنی قرآن و سنت سے براہِ راست اخذ احکام کو اپنے لیے ممنوع قرار دے چکے تھے۔ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف یہ جانتے تھے کہ موجودہ مدوّن فقہ سے اپنے لیے احکام حاصل کرتے رہیں۔ اب صورت حال یہ تھی کہ یہ کتابیں جہاد و قتال کے احکام سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر فقہی کتاب میں اس کے احکام موجود تھے۔ دوسری طرف فقہ کی ان کتابوں کا حال یہ تھا کہ وہ دعوت الی اللہ کے مسائل و احکام سے یکسر خالی تھیں۔ ان میں کتاب الجہاد تو تفصیلی طور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page