Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

تفسیر بالرائے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے (2:75)۔ اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلاشبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض رائے کے تحت کی ہوئی تفسیر اگر بالفرض درست ہو تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لیے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3652)۔ یعنی، جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا تب بھی اس نے غلطی کی۔ ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کیے بغیر محض رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔ اس لیے ایسے کسی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کا ٹھہرے گا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیریں منقول ہیں یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہیے۔ گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علماء اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (38:29)۔ قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے، جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھا جائے، اور بس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page