اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
انہیں کو دہرایا جاتا ہے۔ تدبر کا لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلوب ہے کہ وہ گہرے غور و فکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کرتا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لیے نصیحت اور اضافۂ ایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ گہری نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ حدیث سے صراحتاً بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ نے فرمایا: وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی، قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہونگے۔ ایک اور روایت میں ”لا تفنی“ کا لفظ ہے (سنن الدارمی، حدیث نمبر 3375)۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں۔ یعنی قرآن کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علما اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعدادقوت کے حکم کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے (8:60)۔ موجودہ زمانے میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علما اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعہ ارباب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جس کو مذکورہ آیت میں اعدادقوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔ اب ارباب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader