اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمُ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُوهُمْ (60:8) ۔ یعنی، اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ ہر دوسرے پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ایک عرب مفسر قرآن نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعداد قوت کا مقصد تحریر الانسان ہے۔ اہل ایمان کو طاقت کی فراہمی کا حکم اس لیے دیا گیا تا کہ وہ ساری دنیا کے انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرائیں۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، سیکولرزم اور زاتنزم (صیہونیت)، وغیرہ سے نجات دلانا۔ آیت کی تفسیر بظاہر ایک انقلابی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ مگر یقینی طور پر وہ تفسیر بالرائے ہے۔ مفسر نے قرآن کے الفاظ پر غور کیے بغیر اپنے ذہن میں موجود خیالات کو آیت کی تفسیر میں شامل کر دیا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس کے مطابق، اعداد قوت کا مقصد ارہاب عدو ہے یعنی دشمن کو ہیبت زدہ رکھنا تا کہ وہ اہل ایمان کے خلاف جارحیت کا حوصلہ نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آیت میں اعداد قوت کا حکم دفاعی مقصد کے تحت دیا گیا ہے، مگر مذکورہ مفسر نے اس کو اقدامی معنی میں لے لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader