Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

ان آیتوں کے الفاظ پر غور کیجئے تو ایک بہت با معنی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ حقیقت عربی قاعدہ کے مطابق ضمیر کے فرق میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں جو چیز رکھی وہ سقایہ (یوسف ، 70 : 12) تھا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو عربی قاعدے کے مطابق مونث ہے مگر دربار کے کارکنوں نے قافلے والوں کی تلاشی کے بعد ان کے سامان میں سے جو چیز برآمد کی اس کو قرآن میں ضمیر مذکر کے بجائے ضمیر مونث (ثُمَّا سْتَخْرَجْتُهَا) کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ضمیر ’ہ‘ کی بجائے ’ھا‘۔ ضمیر کے اس فرق پر غور کرنے سے معاملے کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں برادرانہ محبت کے تحت زاد راہ کے ساتھ اپنا پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ درباری کارکن اس سے باخبر تھے۔ البتہ اس دوران در بار کی ایک اور زیادہ بڑی چیز، صواع (غلہ ناپنے کا پیمانہ) سامانوں میں دب کر بظاہر گم ہو گیا۔ جلدی میں درباری کارکنوں کا دھیان قافلے والوں کی طرف گیا اور انہوں نے ان پر شبہ کرتے ہوئے انہیں روکا اور ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی کے دوران ان کا مطلوب پیمانہ ”صواع“ تو نہیں ملا البتہ اس دربار کی ایک اور چیز پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ انہوں نے بن یامین کو خود برادران یوسف کی شریعت کے مطابق روک لیا۔ یہ سارا معاملہ حضرت یوسف کے کسی حکم کے بغیر درباریوں نے بطور خود کیا۔ اسی لیے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی، وہ بادشاہ کے قانون کے رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے بالا تر ایک علم والا ہے (76 : 12)۔ یہ تفسیر قرآنی الفاظ کے مطابق بھی ہے اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ عظمت کے مطابق بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page