Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کریں۔ یہ پیغمبرانہ ماڈل وہی ہے جس کو ہم نے دعوتی ماڈل کا نام دیا ہے۔ اہلِ ایمان کی حقیقی کامیابی پیغمبر کے قائم کیے ہوئے اسی دعوتی ماڈل سے وابستہ ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما بعد کے دور میں مسلم سلاطین کے قائم کیے ہوئے سلطانی ماڈل سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے اپنی تمام تحریکیں اسی سلطانی ماڈل پر چلا دیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تمام تباہیوں کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔ مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ بعد میں مسلم سلاطین مسلح فوجوں کو لے کر مختلف علاقوں میں گھس گئے۔ وہاں انہوں نے قائم شدہ حکومت کی فوجوں کو زیر کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ سلطانی ماڈل اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی مسلم تاریخیں تقریباً سب کی سب اسی سلطانی ماڈل پر ڈھال دی گئیں۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اپنی تاریخی کتابوں کو پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلامی تحریک کا ماڈل بس یہی سلطانی ماڈل ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی سلطانی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھا اور مسلح جہاد کے نام پر اس کو ہر جگہ جاری کر دیا۔ یہی غلطی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔ اسلامی عمل کا صحیح ماڈل وہ ہے جو پیغمبرِ اسلام صلیٰ اللہ علیہ وسلم نیز دوسرے پیغمبروں کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کی بنیاد اسلام کی نظریاتی اشاعت پر رکھی جائے۔ اس کو مخاطب کے معیار فہم کے مطابق مدلل کرتے ہوئے پیش کیا جائے۔ تشدد سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے پرامن اشاعتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ ہر قیمت پر یہ کوشش کی جائے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی کا ماحول ہرگز قائم نہ ہونے پائے۔ معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے مفید ہوتا ہے اور غیر معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے غیر مفید۔ یہی دعوتی ماڈل ہے اور اسی طریقہ کو اختیار کر کے پیغمبرِ اسلام صلیٰ اللہ علیہ وسلم خدا کے دین کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page