Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرانہ ماڈل میں اصل عمل دعوت کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ وہ آغاز میں بھی دعوت ہے اور آخر میں بھی دعوت۔ بعض اوقات بطور استثناء محدود طور پر کسی سے دفاعی ٹکراؤ پیش آسکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہوں اور ایک طرفہ جارحیت کی بنا پر اہل ایمان کو وقتی طور پر اپنے دفاع میں لڑنا پڑے۔ اس وقتی دفاع کے پہلے بھی دعوت ہے اور اسکے بعد بھی دعوت۔ پیغمبرانہ ماڈل میں دعوت کی حیثیت اقدام کی ہے اور جنگ کی حیثیت محدود معنوں میں صرف وقتی دفاع کی۔ موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں نئے انقلابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے مسلح جنگ کو بالکل غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف دعوتی عمل کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کو عزت اور غلبے کے مقام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔ قدیم زمانے میں اہل ایمان کو مذہبی جبر کے ماحول میں دعوتی کام کرنا پڑتا تھا، اب یہ دعوتی کام پوری طرح مذہبی آزادی کے ماحول میں کیا جاسکتا ہے۔ پہلے زمانے میں حق کی پیغام رسانی کے لیے داعی کو پرمشقت سفر کرنا پڑتا تھا، اب جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ خود دعوتی پیغام تیزی سے سفر کر کے دنیا بھر کے تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔ قدیم زمانے کے داعیوں کو مختلف قسم کے توہمات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا پیغام پھیلانا پڑتا تھا، مگر اب سائنسی انقلاب نے توہمات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کھلی ذہنی فضا میں حق کے پیغام کو عام بنایا جاسکے۔ پہلے زمانے میں معیشت کا انحصار صرف زراعت پر تھا، اس لیے داعیوں کو بہت کم وسائل کے ساتھ اپنا مشن چلانا پڑتا تھا، اب صنعتی انقلاب کے بعد معاشی فراوانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، جو پچھلے لوگوں کو صرف معاشی تنگی کے ساتھ کرنا پڑتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید تبدیلیوں نے دعوتی ماڈل کی افادیت اور اہمیت کو بہت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page