Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

تقلید اور اجتہاد انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں : تقلیدی اور اجتہادی۔ تقلیدی ذہن اور اجتہادی ذہن کے فرق کو سادہ طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ تقلیدی ذہن سے مراد بند ذہن ہے اور اجتہادی ذہن سے مراد کھلا ذہن۔ تقلیدی انسان کا ذہنی سفر ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے۔ اس کے برعکس اجتہادی انسان کا ذہنی سفر برابر آگے کی طرف جاری رہتا ہے، وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس فرق کو ایک مثال سے سمجھیے۔ شیکسپیئر انگریزی زبان کا بہت بڑا ادیب ہے۔ اس کی وفات 1916ء میں ہوئی۔ دوسرا، بعد کے زمانے کا انگریزی ادیب جارج برنارڈ شا ہے، جس کی پیدائش 1856ء میں ہوئی ۔ زمانۂ عمل کے اعتبار سے دونوں کے درمیان تقریباً تین سو سال کا فاصلہ ہے۔ برنارڈ شا کا مقام انگریزی ادب کی تاریخ میں شیکسپیئر سے کم ہے۔ برنارڈ شا نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ۔ میرا قد اگر چہ شیکسپیئر سے چھوٹا ہے مگر میں شیکسپیئر کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔ I am samller in stature than Shakespeare, but I stand upon his shoulder. یہ مجتہدانہ طرزِ فکر کی ایک مثال ہے۔ اس طرزِ فکر سے بلند نظری اور حوصلہ مندی پیدا ہوتی ہے۔ جس معاشرہ کے لوگوں میں یہ مزاج ہو وہاں ذہنی ارتقاء کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔ ہر نسل کے افراد پچھلے لوگوں کے علمی سرمایہ پر اضافہ کریں گے اور اس کو مزید ترقی دے کر اگلی نسل تک پہنچاتے رہیں گے۔ موجودہ مسلم معاشرہ اب مسلم معاشرہ کو لیجیے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل تقریباً رک گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر مقلدانہ طرزِ فکر کا رواج ہو گیا، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page