Urdu book · مسائلِ اجتہاد

موجودہ مسلم معاشرہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

مجتہدانہ طرزِ فکر کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ وہ کوئی برائی ہو اور جس کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہو۔ عام طور پر لوگوں کا ذہن یہ بن گیا کہ علم و تحقیق کا سارا کام علمائے سلف کر چکے ہیں۔ اب ہمارے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کی کتابوں کو پڑھیں اور ان کا اتباع کریں۔ مگر اس قسم کی سوچ فکری ترقی کے لیے ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے طرزِ فکر کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ یہ دونوں صورتیں حسب ذیل ہیں: 1۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے مگر میں اسلاف کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔ 2۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے اس لیے میں اسلاف کے قدموں میں پڑا ہوا ہوں۔ مذکورہ تقسیم میں پہلا طرزِ فکر مجتہدانہ ہے۔ وہ مسلم گروہ کے علمی اور ذہنی سفر کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ جس گروہ کے اندر یہ فکری روایت ہو اس کی ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس کی ترقی کو زینے کے طور پر استعمال کرے گی۔ اس طرح ہر اگلی نسل اپنی پہلی نسل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طرزِ فکر مقلدانہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی سفر کو ایک حد پر روک دینے والا ہے۔ اس طرزِ فکر کا بیک وقت دو نقصان ہوگا۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ اسلام کے اعلیٰ فکری درجات پر پہنچنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ اضافہ پذیر معرفت سے آشنا نہ ہو سکیں گے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوگا کہ وہ علمی و فکری میدان میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں گے۔ انسانیت کے رواں دواں قافلے میں وہ گرد راہ بن کر رہ جائیں گے۔ یہ تقلیدی طرزِ فکر عین وہی ہے جس کو جاہلی دور کے مشہور شاعر عنترة بن شداد العبسی (وفات 615ء) نے اپنے معلقہ کے مطلع میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا: هَلْ غَادَرَ الشُّعَرَاءُ مِنْ مُتَرَدَّمِ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے شعرا نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں، اب کسی شاعر کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ اضافہ کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page