Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

جاسکتا ہے۔ یعنی قرآن کے اشارات کور ہنما بنا کر تخلیقِ خداوندی کا مطالعہ کرنا اور حقائقِ فطرت کی روشنی میں ان کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعے کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔ اس سے وہ اہل ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفتِ الہی اور خشیتِ ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (27-35:28)۔ ربانی تعقّل کی تشریح کے لیے موجودہ زمانے میں نئے وسیع امکانات کھل گئے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیقات نے موجودہ زمانے میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے وہ گویا اسی ربانی تعقّل کی تفصیل ہیں۔ ربانی تعقّل کے ان جدید امکانات کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے : ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔ احمد اور الترمذی نے حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ؛ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 12461)۔ یعنی، میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا اوّل بہتر ہوگا یا اس کا آخر۔ بارش جب ہوتی ہے تو اس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page