Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

سلسلہ کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے وحدت وجود کے تصور پر قرآنی عقلیت کو واضح کرنا چاہا۔ اس کا ایک لفظ میں وحدانی تعقل کہا جاسکتا ہے۔ اس طبقے کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں: ابن العربی کی کتاب الفتوحات المکیہ،مولانا روم کی مثنوی،علامہ اقبال کی تشکیل جدید الہیات (Reconstruction of Religious Thought in Islam)۔ یہ طریقہ جس کو ہم نے وحدانی تعقل کا نام دیا ہے، وہ اوّل الذکر یونانی تعقل سے بھی زیادہ غلط تھا۔ اوّل الذکر کو اگر عقلی چیستاں کہا جائے تو یہ دوسرا طریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقے میں توحید کے عقیدہ کو وحدت وجود (Monism) کے تصور پر ڈھال دیا گیا۔ جب کہ اسلام میں توحید کا عقیدہ وحدت خدا (monotheism) کے اصول پر قائم ہے۔ وحدت وجود کا نظریہ سراسر ضلالت ہے اور وحدت خدا کا نظریہ سراسر ہدایت۔ موجودہ زمانے میں مسلم اہل قلم کا ایک اور گروہ پیدا ہوا جس نے اسلامی عقلیت کو سیاسی تعقل کے ہم معنی بنا دیا۔ اس گروہ نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لاالہ الااللہ کو لاحاکم الااللہ کے ہم معنی قرار دیا۔ اس گروہ میں مصر کے سید قطب اور پاکستان کے سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ شامل ہیں۔ سیاسی تعقل کا طریقہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تعقل کی تصغیر تھا۔ اس تشریح میں عقیدہ اسلامی کی آفاقی وسعت سیاست کے محدود دائرہ میں سمٹ کر رہ گئی۔ اسلامی تعقّل کی اس سیاسی تشریح کے نتیجہ میں ایک اور ہلاکت خیز انجام سامنے آیا۔ جولوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے انہیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ وقت کے سیاسی ڈھانچے کو توڑیں اور اس کی جگہ اپنے مزعومہ نقشے کے مطابق، نیا نظام بنائیں ۔ اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیا میں اس تخریبی سیاست کو مزید شدت کے ساتھ جنم دیا جس کا ایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق ، تفکر اور تدبّر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کو ربانی تعقل کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page