اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کا ابتدائی دھماکہ ربانی تعقّل کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں کائناتاتی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے (21:30)۔ اس آیت میں رتق اور فتق کا لفظ ہے۔ رتق کے معنی ہیں کسی مجموعہ کا مخلوط یا منظم ہونا۔ اس سے مراد کائنات کا اصل مادہ ہے جو ابتدائی وقت میں ایک منظم الاجزاء کی صورت میں تھا۔ پھر اس ابتدائی مجموعہ میں دھماکہ ہوا جس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں بکھر گئے اور پھر ایک لمبے عمل کے بعد موجودہ کائنات بنی۔ قرآن کی اس آیت کو قدیم مفسرین اس کے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے لیتے تھے۔ اپنے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ آیت اہل حق کے لیے عظیم ایمانی فائدے رکھتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے قرآن کے اس مجمل بیان کی تفصیل سامنے آئی ہے جو گویا یقین اور معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والی ہے۔ جدید فلکیاتی سائنس بتاتی ہے کہ تقریباً بیس بلین سال پہلے خلا میں ایک سپرا یٹم تھا۔ اس میں اچانک دھماکہ ہوا ۔ اس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے اور آخر کار انہوں نے موجودہ کائنات کی صورت اختیار کی۔ اسی سے موجودہ تمام اجرام بنے جن میں سے ایک ہماری یہ زمین بھی ہے۔ دھماکہ (explosion) کی دو قسمیں ہیں۔ منصوبہ بند دھما کہ، اور منصوبہ کے بغیر خود بخود ہونے والا دھما کہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے دھماکوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ بلا منصوبہ جو دھما کے ہوتے ہیں وہ صرف تخریب کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً کسی بم یا بم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader