اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
ذخیرے کا اپنے آپ پھٹ جانا۔ اس قسم کا دھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہے جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جائے۔ مثلاً پہاڑ کے درمیان سے سرنگ نکالنے کے لیے منصوبہ بند طور پر چٹانوں میں دھماکہ کرنا۔ اس دوسری قسم کا دھماکہ ہمیشہ مفید اور تعمیری نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، کائنات کے آغاز میں سائنس کی تحقیق کے مطابق، بگ بینگ (big bang) کی صورت میں دھماکہ ہوا، اس سے انتہائی مفید اور بامعنی نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دھماکہ یقینی طور پر ایک منصوبہ بند دھماکہ تھا ۔ ایک منصوبہ ساز ہستی نے اپنے متعین منصوبے کے تحت اپنے نقشے کے مطابق ، بالقصد یہ دھماکہ کیا۔ چنانچہ اس سے عین وہی بامعنی نتائج ظاہر ہوئے جو منصوبے کے مطابق اس سے مطلوب تھے۔ اس جدید تشریح کے مطابق ، مذکورہ آیت کے یہ الفاظ کہ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا۔ اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا (21:30) ــ نہایت بامعنی ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا یہ ثابت شدہ آغاز خالص علم انسانی کی سطح پر اس حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے نہایت بامعنی منصوبے کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔ اس حقیقت کے ثابت ہونے کے بعد یہ بات اپنے آپ ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان اور کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً (3:191)۔ یعنی، اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کا انکار کریں ان کے لیے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجودنہیں۔ ربانی تعقُّل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سائنس کے تمام مضامین قرآن میں موجود ہیں، یا یہ کہ ساری کی ساری سائنس خود قرآن سے اخذ کی گئی ہے۔ اس قسم کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader