اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زوجین کا اصول جو انسانوں میں ہے وہی دنیا کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے، وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے۔ مادی ایٹم میں منفی ذرہ (negative particle) کے ساتھ مثبت ذرہ (positive particle) کا ہونا۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یا نر اور مادہ کا اصول ہے ۔ ان میں سے ایک کو میل فلاور (staminate flower) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے کو فیمیل فلاور (pistillate flower)۔ اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں۔ ان میں سے نر کو ہی میل (he-male) اور مادہ کو شی میل (she-male) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑے ہیں جن کو ہم عورت اور مرد کے نام سے جانتے ہیں۔ زوجین کے عمومی اصول کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عموم میں ایک استثناء ہے، اور وہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموں کے باوجود ایک نامکمل دنیا ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے اس کا ایک جوڑا (زوج) درکار ہے۔ مگر یہ جوڑا موجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ موجودہ انسانی دنیا ایک مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ یہاں سارے انسانی تعلقات مفاد کے اصول پر قائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک با اصول معیاری دنیا (ideal world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔ اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا (زوج) ہو جو اس کمی کو پورا کر کے اس کی تکمیل کرے ۔ موجودہ دنیا مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ اب اس کا جوڑا (زوج) ایک ایسی دنیا ہے جو مبنی بر اقدار (value based) دنیا ہے۔ ایسی ایک دنیا ہی موجودہ دنیا کی کمی کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader