Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

باتیں اسلام اور سائنس دونوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی بات اصلاً قرآن کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ قرآن کے حوالے سے اپنے قومی فخر کو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ ربانی تعقّل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعے نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔ یہ وہی چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ ــــ لَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (3130) ۔ یعنی، قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یقینی طور پر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانے میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ زوجین کی مثال قرآن کی سورہ نمبر 51 میں ارشاد ہوا ہے: وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49) ۔ یعنی، ہم نے ہر چیز کو جوڑا بنایا تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی آیت میں موجودہ دنیا کے ایک ظاہر ہ کا ذکر کر کے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہر رے کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں زوجین کی تفسیر پچھلے مفسرین نے مختلف انداز سے کی ہے۔ ان تفسیروں میں بہرحال نصیحت کا سامان ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان کا اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت، قرآن کے الفاظ میں، ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ (48:4) کا سبب بن جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page