Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

دریا کا سامنا چٹان سے ہو تو وہ اپنا راستہ بدل کر آگے بڑھ جاتا ہے مگر نادان انسان چاہتا ہے کہ وہ چٹان کو توڑ کر اپنا راستہ بنائے، خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کا سفر ہی ہمیشہ کے لیے رک جائےـ موجودہ حالت میں پاکستان کے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ جمہوری حکومت اور فوجی حکومت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ حقیقی انتخاب جن دو حالتوں کے درمیان ہے، وہ یہ کہ پاکستان کا سفر جس بندگلی (impasse) پر آکر رک گیا ہے، وہاں سے وہ اپنے آپ کو نکال کر اپنا سفر دوبارہ شروع کرے، یا وہ اسی بندگلی میں بدستور پڑا رہے۔ یہاں تک کہ وہ قوموں کے عالمی روڈ میپ سے غیرموجود ہو جائے۔ کسی قوم کی زندگی میں بعض اوقات ایسا لمحہ آتا ہے جب کہ قوم کا ترقیاتی سفر رک جاتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایک جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے تا کہ دوبارہ قوم کا سفر معتدل انداز میں جاری ہو سکے۔ اس قسم کا نازک فیصلہ اکثر اوقات عوامی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ اکثر ایسے افراد کرتے ہیں جو فوجی حکمران کی حیثیت رکھتے ہوں۔ جمہوری حکمران اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ عوام کی رایوں سے چن کر حکومت تک پہنچتا ہے، اس بنا پر اس کے لیے ایسا کوئی انقلابی فیصلہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے جو عوامی احساسات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں میں اس نوعیت کی دو مثالیں پیش کروں گا۔ مسلم تاریخ میں اس کی ایک مثال صلاح الدین ایوبی (وفات 1193ء) کی ہے۔ صلاح الدین کا یہ عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے صلیبی قوموں کی فوجی یلغار سے مسلم دنیا کو بچایا۔ مگر صلاح الدین کو یہ طاقتور حاکمانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page