اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
حیثیت کیسے ملی جبکہ وہ اپنا عظیم رول ادا کر سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلاح الدین ایوبی مصر کے سلطان نورالدین زنگی کا ایک فوجی افسر تھا۔ سلطان نورالدین کی موت کے بعد اگرچہ اس کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین نے حکومت پر قبضہ کرکے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ مسلم مؤرخین نے عام طور پر صلاح الدین کے قبضے کی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ یہ قبضہ اگر چہ بظاہر غیر آئینی تھا لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ایک عظیم سیاسی فائدے کا سبب بنا۔ اسی نے صلاح الدین ایوبی کے لیے اس امر کو ممکن بنایا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا وہ عظیم کردار ادا کر سکے جو کہ اس نے اس کے بعد ادا کیا۔ دوسری مثال فرانس کے چارلس ڈیگال (وفات 1970) کی ہے۔ وہ فرانس کی فوج میں ایک جنرل تھا۔ اس کے بعد اس نے حالات سے فائدہ اٹھا کر فرانس کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ کیونکہ جو حکمراں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے کوئی جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ جبکہ بعض حالات میں کسی قوم کی نجات کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے ایک جرأت مندانہ فیصلہ لیا جائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس وقت فرانس نے افریقہ کے کئی ملکوں مثلاً الجزائر پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اور ان کو فرانس کے صوبے (province) کہتا تھا۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی فرانس کے لیے اتنی زیادہ مہلک ثابت ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاری ہونے والی ترقیاتی دوڑ میں وہ یورپ کا ایک ”مرد بیمار“ بن گیا۔ ڈیگال نے قومی جذبات سے الگ ہو کر اس مسئلہ پر غور کیا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ افریقہ کی فرانسیسی کالونیوں کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا جائے۔ یہ اقدام فرانس کے عوام کے جذبات کے سراسر خلاف تھا مگر یہی غیر مقبول فیصلہ ہے جس نے فرانس کو جدید ترقیاتی دوڑ میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader