Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

asked Sheikh Abdullah to meet Ayyub Khan in Rawalpindi in an effort to resolve the Kashmir imbroglio. The Pakistani leader agreed to a summit with Nehru. To be held in June 1964.This message was urgently telegraphed to Nehru on May 26. But just as Nehru’s consent reached Karachi, the word also learnt that Nehru had died in his sleep.And with that a major opportunity for a peaceful solution over Kashmir was also lost. (The Hindustan Times, June 18, 2001) پاکستان اگر ایسا کرے کہ کشمیر کے بارے میں صورت موجودہ (status quo) پر رضا مند ہو کر اس کو مستقل بند و بست کے طور پر قبول کرلے تو اس میں پاکستان کا یا وسیع تر معنوں میں ملت مسلمہ کا کوئی نقصان نہیں۔ کشمیر کا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کے بعد بھی بدستور ایک مسلم خطے کے طور پر اپنی جگہ باقی رہے گا۔ پھر اس میں آخر نقصان کی کیا بات۔ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ برصغیر ہند کے جو مسلمان انڈیا سے جڑے انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت زیادہ ترقی کی حتیٰ کہ آج نہ صرف برصغیر ہند بلکہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند تاجر ہندوستان کا ایک مسلمان ہے جو بنگلور میں رہتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان کا ہندوستان سے مصالحت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے طاقتور پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا ہے۔ اور اپنے پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا گویا اپنے اوپر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولنا ہے۔ اپنے حریف سے نزاع کو ختم کرنا کس طرح ترقی کا زینہ بنتا ہے، اس کی ایک مثال موجودہ جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ سے مکمل مصالحت کر لی۔ اس مصالحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان عالمی نقشہ میں اقتصادی سپر پاور بن کر ابھر آیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page