Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ دونوں قریب کے پڑوسی بن جائیں گے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم کام کرنا چاہے تو اس وقت پیشگی حالات کے نتیجے میں ایک عملی صورتحال (status quo) موجود رہتی ہے۔ اب سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے موجودہ صورتحال (status quo) کو بدلا جائے تا کہ عمل کرنے کے راستے پیدا ہوں۔ دوسرے یہ کہ موجود صورت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے دوسرے ممکنہ میدانوں میں اپنا عمل جاری کرنا۔ یہ طریقہ جس کو میں مثبت اسٹیٹس کو ازم (positive status quoism) کہتا ہوں، یہی عقل کے مطابق ہے۔ ہر دانش مند آدمی کا یہ کہنا ہے کہ جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہ ہو تو پریکٹیکل پر راضی ہو جاؤ۔ خود اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ: اَلصُّلْحُ خَيْرُ (4:128)۔ یعنی نزاعی معاملات میں سب سے زیادہ بہتر اور مفید پالیسی سمجھوتہ کی پالیسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلافی مواقع پر ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مصالحت کا طریقہ اختیار کرنا۔ اسٹیٹس کو (status quo) کو مانتے ہوئے تعلقات کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کی یہ تجویز کوئی نئی نہیں۔ جواہر لال نہرو کے زمانے میں دونوں طرف کی حکومتیں مبینہ طور پر اس تجویز پر راضی ہو چکی تھیں۔ حتی کہ شیخ محمد عبد اللہ دونوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی (middle man) کے طور پر پاکستان پہنچ چکے تھے۔ مگر نہرو کی اچانک موت سے اس تاریخ ساز منصوبہ پر عمل درآمد نہ ہو سکا: By 1956 Nehru had publicly offered a settlement of Kashmir with Pakistan overthe ceasefire line (now convertedinto the LoC). On May 23, 1964, Nehru

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page