Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

فراست مومن پیغمبر اسلام کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحب حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ کے بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1343)۔ یعنی ، حسد نہیں سواد قسم کے آدمیوں پر۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا تو وہ اس کو حق کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلّم نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى صَدْرِهِ وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3546)۔ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسُ تُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ (مسند الدارمی حدیث نمبر 295)۔ مقدمہ یعنی، کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ: لَيْسَ هَدِيَّةً أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ تُهْدِيهَا (مسند الدارمی حدیث نمبر (363)۔ یعنی، حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔ حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اس کو لینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا (سنن الترمذی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page