Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث نمبر 2687)۔ یعنی، حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے وہ جہاں اس کو پائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ بعض روایت کے مطابق، حکمت اور تفقه کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ ہے ۔ چنانچہ الترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَقِيهُ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 222)۔ یعنی، ایک فقیہ، شیطان کے اوپر ہزار عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے آپ نے ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ یہاں اس سلسلہ میں آپ کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ نزاع کے موقع پر پیغمبر اسلام کی عمر جب 35 سال تھی اس وقت مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ کعبہ کی عمارت بعض اسباب سے منہدم ہوگئی۔ اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی۔ اس دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھائے اور اس کو دوبارہ اس کی جگہ پر کعبہ کی دیوار میں نصب کرے ۔ یہ چونکہ فضیلت کا ایک معاملہ تھا، ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اور اس شرف کا مالک بنے۔ اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا اور کوئی اتفاقی فارمولا طے نہ ہو سکا آخر کار قریش کے ایک بزرگ کی تجویز کے مطابق وہ اس پر راضی ہوئے کہ کل صبح کو جو آدمی سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو، وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلہ کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہر ایک نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page