عقلی استدلال
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
عقلی استدلال قرآن کی دعوت توحید کی دعوت ہے۔ قرآن شرک کی تردید کرتا ہے اور توحید کو ابدی حقیقت کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن نے اپنے مخالفین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹونی بكتـاب من قبل هذا أو أثارة من علم (الاحقاف ۴) یعنی میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم لے آؤ جو چلا آتا ہو۔ مفسر ابن کثیر نے ان دونوں علوم کی تشریح نقلی علم اور عقلی علم کے الفاظ میں کی ہے (تفسیر ابن کثیر ۴/ ۱۵۳) گویا قرآن اپنے بنیادی پیغام کی صداقت کو جانچنے کے لیے مخاطب کو دو معیار دیتا ہے۔ ایک، سابق الہامی علم جو کتب مقدسہ کی صورت میں موجود ہے۔ دوسرے، وہ علمی اصول جو مسلسل تجربہ اور تحقیق کے بعد اہل عقل کے نزدیک مسلم بن گئے ہوں۔ جہاں تک قدیم مذہبی کتابوں کا تعلق ہے، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ تمام تر تحریفات کے باوجود آج بھی وہ قرآن کے بنیادی پیغام کی تصدیق کر رہی ہیں۔ مثلاً تعدد کے اعتبار سے آج سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے۔ چرچ کے اعلان کے مطابق ، مسیحیت کا مذہب تثلیث ہے۔ مگر خود عہد نامہ جدید یا عہد نامہ قدیم سے تثلیث کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس موجودہ محرف متن میں بھی توحید کا عقیدہ واضح طور پر موجود ہے۔ جو شخص قرآن یا اسلام کی صداقت کو دلیل سے جانچنا چاہے اس کے لیے جانچنے کا دوسرا طریقہ مسلمہ عقلی علم ہے۔ یعنی علمی تحقیقات کے ذریعہ جو اصول اہل علم اور اہل عقل کے درمیان تسلیم شدہ بن گئے ہوں، ان کی روشنی میں جانچ کر قرآن کی صداقت کو معلوم کرنا۔ یہ عقلی مسلمات محض عقلی مسلمات نہیں ہوتے۔ وہ عالم فطرت کے ابدی حقائق ہوتے ہیں جن کو دریافت کرکے علماء اور عقلاء ان پر متفق ہو جاتے ہیں ، قرآن خالق کائنات کا کلام ہے۔ اور عالم فطرت اسی خالق حقیقی کی مخلوق۔ اس طرح قرآن اور فطرت دونوں کا سر چشمہ ایک ہے۔ اور جب دونوں کا سر چشمہ ایک ہو تو ان میں اختلاف کیوں کر واقع ہوگا۔ عقلی استدلال یا دہ معتبر معیار تحقیق کیا ہے جس کو استعمال کر کے ایک شخص یہ اطمینان حاصل کرے کہ اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader